Ahmadi Muslim Mosque Vandalised By Pakistan Govt Faisalabad

Ahmadi Muslim Mosque Vandalised By Pakistan Govt Faisalabad – R.B Udhwali 261 on 17.06.2021

تقریباً ڈیڑھ سال سے گاؤں چک نمبر 261ر۔ب ،ادھوالی (261.R.B:Udhwali) ضلع فیصل آباد میں مخالفت کی شدید لہر چلی ہوئی تھی، اور مخالفین مختلف مولویوں کو گاؤں میں بلا کر جلسے اور جلوس کر رہے ہیں۔ اس شر انگیزی میں گاوں کے باہر کے مولویوں میں سے ابتدائی طور پر آغاز عرفان محمود برق تھا
(ایک دن مولوی صاحب گاڑی میں کتابیں بھر کر گاؤں آگئے اور کہنے لگے کہ جماعت احمدیہ کے متعلق میرے کچھ اعتراضات ہیں ان کے جواب دیں۔جب بتایا گیا کہ فی الحال موجودہ حالات میں ایسا ممکن نہ ہے ،آپ اس بارے سوشل میڈیا سے جوابات حاصل کرسکتے ہیں۔تب اس قسم کی جھوٹی گپوں پر اُتر آئے کہ میں لاہور سے آیا ہوں ،اور ساری جماعت میں کوئی میرے جوابات دینے والے نہیں۔ لیکن جب غیر احمدی دوستوں کی موجودگی میں ، ہمارے بعض سوشل میڈیا پرا یکٹو احباب کے ساتھ آن لائن بات کرنے کا کہا گیا اور بتایا گیا کہ ساری بات ریکارڈ کی جائے گی۔تو پھر چراغوں میں تیل نہ رہا۔اور سوشل میڈیا پر آن لائن ریکاڈنگ والی گفتگو سے راہ فرار اختیار کرگئے۔اور اس قسم کے لایعنی لاف و گزاف پر اُتر آئے کہ میں ختم نبوت کی چار تنظیموں کا صدر ہوں ،میں تو صرف مرزا مسرور(ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ فداہ أبی و امی) سے ہی بات کرونگا۔جس پر گاؤں کے غیر احمدیوں نے بھی موصوف کو خوب لعن طعن کی ،کہ تم لاہور سے ایک گاؤںمیں آگئے ہو،اور اب اس طرح کی طرح کی بے تکی باتیں کرکے راہ فرار اختیار کر رہے ہو)
اور اس کے بعد دیگر کئی مولویوں کو گاؤں کے بعض احباب بُلاتے رہے ۔ اورپھر بزعم خود اکیلے ہی زبانی کلامی جمع خرچ کرکے اور اپنی فتوحات کا اعلان کر کے واپس جاتے رہے۔
یا در ہے کہ ان مولویوں کو بُلانے والے خاص طور پر ’’کالعدم تحریک لبیک ‘‘ کے کارکنان ہیں۔جن میں ایک گاؤں کے مولوی صاحب ہیں جو کچھ عرصہ قبل مدرسہ سے پڑھ کرآئے ہیں وہ پیش پیش رہتے ہیں،اور یہ گاؤں کے مولوی صاحب اس کالعدم تحریک کے ضلعی سطح کی ممبر بھی ہیں۔اور یہ سب لوگ باقاعدہ سوشل میڈیا پر بھی کافی ایکٹو ہیں۔دن بدن پھر اس مخالفت میں مزید تیزی آتی گئی۔
پھر بعد میں تو بعض غیر احمدی احباب ہمارے احمدیوں کے گھرگھر جا کر مناظرہ کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔نیز سب گاؤں کے سامنے ان کے مزعومہ سیرت حضرت مسیح موعود پر سوالات کے جوابات کے لیے پکارتے رہے۔
بعد ازاں اس سے بھی بڑھ کر یہ لوگ تو، تمام گاوں میں ہمارا بائیکاٹ کرنے،مسجد کا محراب و گنبد گرانے ،قبرستان وغیرہ کو نقصان پہنچانے اور گھر وں سمیت دیگر سب جگہوں سے کلمات خیر و ادعیہ مٹانے کی کوشش میں تھے،اور اس سلسلہ میں تھانہ ڈجکوٹ میں ایک درخواست جمع کروائی تھی کہ جس میں گاؤں کے مختلف لوگوں کے شناختی کارڈ وغیرہ نوٹ کر کے کہا گیا تھا کہ ان سب احباب کی ڈیمانڈ ہے کہ نعوذباللہ کلمہ مٹایا جائے،مسجد کے گنبدو محراب کو ختم کروایا جائے وغیرہ وغیرہ۔
21مئی کو تھانہ ڈجکوٹ کے SHO کے ساتھ فریقین کے نمائندگان کی گفتگو ہوئی اور اس کے بعد مختلف سرکاری اہلکار جن پٹواری ، تحصیلدار،AC صاحب یعنی اسٹنٹ کمشنر ،ڈی ایس پی،اور بعد ازاں ایس پی اقبال ڈویژن فیصل آباد سے ملاقاتیں ہوتی رہی۔
مؤرخہ 9جون 2021 کو ضلعی امن کمیٹی،AC صاحب،اور سپرنٹنڈنٹ پولیس نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ مینار اور کلمہ طیبہ ودیگر أدعیہ کو Remove کردیا جائے۔اور اس کام کی نگرانی AC صاحب کریں گے۔
ساتھ کہا گیا تھا کہ تین دن کے اندر اندر اس فیصلہ کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے۔ اس فیصلہ کے خلاف اپیل کی گئی۔
شنید ہے کہ یہ اعلیٰ سرکاری اہلکار اس اپیل پر شدید غصہ میں تھے کہ اُن کے اس فیصلہ (جو کہ لازماً غیر منصفانہ ہے)کو کیوں چیلنج کیا گیاہے۔
اس بابت باقاعدہ سماعت کیے بغیر ہی مؤرخہ 17جون 2021 کو رات آٹھ بجے SHO تھانہ ڈجکوٹ،تقریباً 20پولیس اہلکاروں کے ساتھ، کارپوریشن ایڈمنسٹیٹرر ڈجکوٹ بمع اپنے اپنے 30 سرکاری اہلکاروں کے ساتھ۔آئے ۔نیز ان کے ساتھ یہ اعلیٰ سرکاری اہلکار بھی تھے مثلاًنائب تحصیلدار،پٹواری ،سیکرٹری یونین کونسل ،نائب قاصد وغیرہ ۔یہ سب احباب محراب ، کلمہ طیبہ اور گھروں سے دعائیہ کلمات مٹانے کے لیے پہنچ گئے۔
ان میں سے بعض افراد نقاب پوش بھی تھے۔اور تقریباً ساڑھے تین گھنٹے میں مکمل کاروائی کی۔اس دوران مسجد کے مینار،کلمہ طیبہ ،قرآنی آیات۔اسی طرح چار احمدی گھروں کے باہر لکھے ہوئی دعائیہ کلمات وغیرہ بھی مٹائےگئے۔
اس ساری کاروائی کے آخر پر تما م مذکوہ چیزوں کا ملبہ بھی اٹھا کر ساتھ لے گئے۔بلکہ بیت الذکر میں جن جگہوں سے کلمہ وغیرہ مٹایا تھا وہاں سمٹ کا کچھ پلستر کرکے نشانات مذکورہ مٹانے کی بھی ناکام کوشش کی گئ ہے۔
یاد رہے ان سرکاری اہلکاروں نے جو کہ بزعم خود قانون نافذ کرنے آئے تھے ،انہوں نے اپنے عملہ کے علاوہ اس وقت کسی کو قریب نہیں آنے دیا۔دور دور تک نگرانی کرتے رہے ،بلکہ پاس پاس والے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر بھی نگرانی کرتے رہے۔
بلکہ اس اس بھی بڑھ کر ہمارے خدام اور بزرگان کے موبائل فون بھی پکڑ لیے تھے اور جو بھی تصویر یا ویڈیو بناتا ہوئے دیکھتے اس کے موبائل کا سب ڈیٹا ڈیلیٹ کر تے چلے گئے ،اور ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ کوئی ریکارڈنگ نہ کی جائے۔

مینار کو کاٹنے کے لیے کٹر اور گرینڈر لے کر آئے تھے۔۔۔۔اس بابت کچھ ویڈیوز ارسال ہیں دیکھ کچھ کام آسکیں۔۔۔۔نیز یاد رہے اس وقت ساری لائٹس بند کروا دی گئی تھیں اور صرف موبائل کی ٹارچ وغیرہ چلائی ہوئی تھی

Police Vandalising The Mosque At Night

After Police Finished Vandalisation of The Mosque

Quranic Verses Removed From Ahmadi Houses

FIR That Was Launched By Banned Organisation TLP ( Tehreeke Labbaik Pakistan )

Videos of Before and After Vandalisation

After Vandalised By Punjab Police and Administration